ابنا: صدر جلال طالباني نے دہشتگرد عناصر کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردو کا مقصد ملک کو سياسي بحران اور کشمکش سے نکالنے کي غرض سے کي جانے والي کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔ انہوں ملک ميں ہونے والے حاليہ بم دھماکوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن عناصر خطے کي حساس صورتحال کے درميان دہشتگردانہ کاروائيوں کے ذريعے عراق کو غير مستحکم کرنے کي کوشش کر رہے ہيں تاہم انہوں نے کہاکہ دہشتگرد اپنے مقاصد ميں کبھي کامياب نہيں ہوں گے۔عراقي صدر نے ملک کي تمام سياسي جماعتوں سے اپيل کي کہ وہ ملک کو سياسي بحران سے نکالنے کے لئے آئين کے مطابق کوئي راستہ تلاش کرنے ميں حکومت کا ساتھ ديں۔ انہوں نے سياسي جماعتوں پر زور ديا کہ وہ سياسي اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک ميں امن و استحکام پيدا کرنے لئے مشترکہ کوشش کريں۔عراق کي پارليمنٹ کے اسپيکر نے اپنے ايک بيان ميں ملک ميں گزشتہ روز ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کي مذمت کرتے ہوئے پارليمان کا ہنگامي اجلاس طلب کرنے کوکہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز عراق کے چودہ شہروں ميں ہونے والے بائيس بم دھماکوں ميں سو سے زائد افراد جا ں بحق اور سيکڑوں ديگر زخمي ہوگئے تھے۔عراقي ذرائع ، امريکہ اور سعودي عرب سميت خطے کے بعض عرب ملکوں پر عراقي ميں سرگرم دہشتگردوں کي مالي ااور اسلحہ جاتي حمايت کا الزام لگاتے ہيں۔
........
/169